
منزل
آؤ منزل کی سمت چلتے ہیں !
آؤ منزل کی سمت چلتے ہیں
آو رسموں کو اک طرف رکھ کر
زندگی کی کٹھن مسافت میں
آرزوؤں کی سر زمین پر ہم
دیپ خواہش کے کچھ جلائیں گے
لوگ کہتے ہیں جو کہیں پر ہم
اب کہاں ان کے ہاتھ آئیں گے
آؤ وعدوں کو اب نبھاتے ہیں
دل کے آنگن کو ہم سجاتے ہیں
اپنی ہستی کو اک طرف رکھ کر
اپنی چاہت میں خود کو گم کر کر