
منزل
آؤ منزل کی سمت چلتے ہیں
آؤ رسموں کو اک طرف کر کے
جانب عشق کو سفر کر کے
ساری اپنی حدیں ختم کر کے
تیری راہوں میں سر کو خم کر کے
ہر وفا تیرے نام ہم کر کے
آؤ منزل کی سمت چلتے ہیں
گو کہ دشوار ہے سفر پھر بھی
راہ میں خار ہے مگر پھر بھی
جینا دشوار ہے مگر پھر بھی